بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ اسلامی جمہوریہ ایران پر مسلط کردہ 40 روزہ جنگ سے پہلے، خطے کی عرب ریاستوں کو امریکہ کے ساتھ تعاون کی خصوصیت کے ساتھ، ترقی یافتہ اور جدید ممالک کے طور پر یاد کیا جاتا تھا جن میں بظاہر ہر روز نئی ترقیاں اور پیشرفتیں رونما ہوتی تھیں۔
یہ اونچائی پر واقع جعلی، مہنگے ـ اور البتہ ناقابل استعمال ـ اسٹیڈیم کی تعمیر سے لے کر متحدہ عرب امارات جیسے ممالک کو خطے کے معاشی مرکز کے طور پر پیش کرنا، نام نہاد عرب جدیدیت کی وسیع نمائش تھی۔
اگر آپ اب بھی گوگل سرچ انجن پر جائیں تو وہ ان ممالک کی جو تصاویر شائع کرتا ہے وہ جدید اور ترقی یافتہ ممالک کی تصویر ہے لیکن مسلط کردہ جنگِ رمضان نے واضح کیا کہ دوسروں پر انحصار اور حقیقی ترقی کے درمیان فرق کیا ہے؟
مسلط کردہ جنگِ رمضان محض ایک فوجی تنازع نہیں تھی؛ بلکہ مغربی ایشیا میں سیکورٹی اور معاشی ماڈلز کی کارکردگی جانچنے کا ایک امتحان تھی۔ اس جنگ کے نتائج سے ثابت ہؤا کہ عرب ممالک کے بہت سے سیکورٹی اندازے، ـ خاص طور پر ایران کے حوالے سے، خلیج فارسی کی عرب ریاستوں کے تخمینے ـ وسیع پیمانے پر نظرثانی کے محتاج ہیں۔
1. سلامتی غیر ملکیوں کے اڈوں سے نہیں خریدی جاتی
اسلامی جمہوریہ ایران برسوں خبردار کرتا آیا ہے کہ خطے کے ممالک کا امریکی افواج اور اڈوں کی میزبانی، سلامتی لانے کے بجائے، انہیں کسی بھی ممکنہ جنگ کا حصہ بناتی ہے۔ اسلامی جمہوریہ ایران کا یہ انتباہ بلا وجہ نہیں تھا؛ کیونکہ تنازع شروع ہوتے ہی خلیج فارس کی عرب ریاستیں بھی سیکورٹی خطرات اور وسیع معاشی نقصانات سے دوچار ہوئے۔
ان ریاستوں نے اپنی سرزمین کو دشمن کے سپرد کرکے اپنی اور خطے کی سلامتی کو نقصان پہنچایا۔ ایران نے اپنے فوجی اہداف میں عملیت پسندی کے ساتھ ثابت کیا کہ "سلامتی سب کے لئے" ایک نعرہ نہیں ہے اور جب بھی ان ریاستوں کی جانب سے ایران کے لئے عدم تحفظ اور خطرہ پیدا ہوگا، اس کا انجام سخت اور مہنگا ہوگا۔
2۔ امریکہ پر اعتماد کی لاگت، اس کی فراہم کردہ سلامتی سے زیادہ ہے
معتبر تخمینوں سے معلوم ہوتا ہے کہ اس جنگ کے نتیجے میں عرب ریاستوں کو تقریباً 190 ارب ڈالر کا نقصان اٹھانا پڑا اور ان ریاستوں میں 35 لاکھ ملازمتیں ختم ہوئیں۔ اور معلوم ہؤا کہ اپنی سلامتی کے لئے امریکہ پر انحصار نے نہ صرف ان کے لئے کوئی تسدید (Detternce) پیدا نہیں کی، بلکہ خطے کی معیشت پر بھاری اخراجات بھی مسلط کئے؛ چنانچہ واشنگٹن کے ساتھ سیکورٹی شراکت داری نے انہیں سلامتی نہیں دی اور اس سے کئی گنا زیادہ، مالی نقصان پہنچایا اور عدم تحفظ سے دوچار کیا۔
نیز ان ریاستوں نے ایران پر غلبہ حاصل کرنے کے سیاسی خواب کا خواب دیکھتے ہوئے، خود کو جنگ کا محاذ اور پیشانی بنا لیا اور صہیونی حکومت کی دفاع کی سزا بھگتی، جسے وہ سیکورٹی اور زیادہ لاگت کے ساتھ ادا کر رہے ہیں۔
3۔ علاقائی سلامتی کا مستقبل، ایران سے مکالمہ ہے نہ کہ اس کا مقابلہ کرنا
نظریئے میں یہ تبدیلی اب امریکی حکام کے بیانات میں بھی دیکھی جا رہی ہے۔ امریکی قومی سلامتی کے سابق مشیر، جیک سولیوان (Jacob J. Sullivan)، کہتے ہیں کہ خطے کی ریاستیں ـ خاص طور پر آبنائے ہرمز کے بارے میں ـ تیزی سے ایران کے ساتھ خصوصی معاہدوں کی طرف "بڑھ رہی ہیں"،
یہ اعتراف ظاہر کرتا ہے کہ واشنگٹن میں بھی اس حقیقت کا ادراک پیدا ہؤا ہے، کہ خلیج فارس میں سلامتی کے پائیدار نظام کا قیامع ایران کے کردار کے بغیر، بہت مشکل ہے۔
عرب ریاستوں کو اب آبنائے ہرمز پر ایران کی حکمرانی اور انتظام سے ہم آہنگ ہونا چاہئے، جس سے وہ برسوں سے مفت فائدہ اٹھاتے رہے ہیں اور اس کی سلامتی کی قیمت ایران ادا کرتا رہا ہے۔ اور آج، آبنائے ہرمز کا معاملہ ان معاملات میں سے ہے جو مسلط کردہ جنگِ رمضان سے پہلے کی حالت میں واپس نہیں جائے گا۔ امن و سلامتی اور درآمدات اور برآمدات کے خواہاں ہیں تو ایران کی متعینہ ترتیب و تشکیل کی پیروی کرنا پڑے گی۔
4۔ اسلامی جمہوریہ ایران ہی آبنائے ہرمز کے قواعد طے کرتا ہے
سلیوان نے ایک اور بیان میں آبنائے ہرمز سے متعلق مفاہمت کی یادداشت کا حوالہ دیتے ہوئے واضح کیا کہ بعدازیں، ایران ایک مقررہ مدت کے بعد جہازوں کے گذرنے کی فیس وصول کرنے کے لئے اقدام کر سکتا ہے۔
اس معاملے کی قانونی تفصیلات سے قطع نظر، ایک سابق اعلیٰ امریکی اہلکار کی جانب سے اس طرح کے مسئلے کا اٹھایا جانا، خود آبنائے ہرمز اور عالمی توانائی کی سیکورٹی کے قواعد اور فارمولوں ميں، ایران کے فیصلہ کن پوزیشن کا اظہار و اقرار بھی ہے۔
5۔ تزویراتی غلطی دہرانے سے بھی، سلامتی کی ضمانت حاصل نہیں کی جا سکتی
اگر عرب ممالک تصور کریں کہ اسی پرانی طرز پر واپس جائیں گے اور ایک بار پھر امریکہ پر انحصار کر کے پائیدار سیکورٹی حاصل کر سکیں گے، تو ممکن ہے کہ نقصان اور عدم تحفظ کا وہی چکر دہرایا جائے۔
جنگ رمضان کے تجربے نے آشکار کر دیا کہ خطے کی سلامتی غیر علاقائی طاقتوں کی موجودگی کے راستے سے نہیں، بلکہ خطے کے ممالک کے تعاون، باہمی احترام اور جغرافیائی سیاسی حقائق تسلیم کرنے کے راستے سے حاصل ہوتی ہے۔
جنگ رمضان، ایک فوجی تقابل سے زیادہ، خطے کے سیکورٹی ماڈل کے لئے ایک امتحان بھی تھی۔ اسلامی جمہوریہ ایران نے برسوں مشورہ دیا کہ خلیج فارس کی سلامتی خطے کے ممالک کے ذریعے فراہم ہونی چاہئے، اور آج وہ خود بھی دیکھ رہے ہیں کہ حتیٰ کہ بعض امریکی حکام بھی، ایران کے ساتھ، عرب ریاستوں کے معاہدے کی جانب بڑھنے کی بات کر رہے ہیں۔ اگر یہ تجربہ عرب ریاستوں کی حکومتوں کے اسٹریٹجک حسابات کی اصلاح کا باعث نہ بنا، تو اس کے سیاسی، معاشی اور سیکورٹی اخراجات ایک بار پھر خود انہی پر عائد ہوں گے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تحریر: امیر حمزہ نژاد
ترجمہ: ابو فروہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ